اسطخودوسPage 9 of 15This page is saved
اسطخودوس کو روایتی طب میں سر درد، نسیان، دماغی کمزوری، فالج، لقوہ، مرگی، نزلہ و زکام اور بلغم سے متعلق شکایات کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بعض روایتی نسخوں میں جوڑوں کے درد، معدے کی کمزوری اور جگر سے متعلق بعض علامات کا ذکر بھی ملتا ہے۔
اس کے روایتی استعمالات میں دماغ سے غیر مطلوب رطوبات کے اخراج کا تصور اہم رہا ہے۔ تاہم فالج، مرگی، جگر کی بیماری یا پیٹ میں پانی جمع ہونے جیسی کیفیتوں کے لیے اسطخودوس کی افادیت مضبوط انسانی شواہد سے ثابت نہیں۔
شدید یا اچانک سر درد، جسم کے ایک طرف کمزوری، بولنے میں دشواری یا دورہ پڑنے کی صورت میں فوری طبی امداد ضروری ہے۔ اسطخودوس کو ان حالات کے ضروری علاج کا متبادل نہیں بنانا چاہیے۔