اسطخودوسPage 7 of 10This page is saved
ان اجزا کی مقدار پودے کی نوع، مقام، موسم اور تیل نکالنے کے طریقے کے مطابق بدلتی ہے۔اس لیے اسطخودوس کے ہر نمونے کی خوشبو اور کیمیائی ترکیب یکساں نہیں ہوتی۔جدید سائنسی تحقیق اسطخودوس اور لیونڈر کی دوسری انواع کے تیل پر تجربہ گاہی تحقیق میں جراثیم کے خلاف، اینٹی آکسیڈنٹ اور بعض اعصابی اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔تاہم ایک نوع کے نتائج کو دوسری نوع پر بلا تحقیق لاگو نہیں کیا جا سکتا۔اسطخودوس کے ذریعے مرگی، فالج، جگر کی بیماری، استسقاء یا یادداشت کی کمزوری کے مؤثر علاج کے لیے معیاری انسانی شواہد محدود ہیں۔اسی طرح خوشبودار تیل کی موجودگی بذاتِ خود یہ ثابت نہیں کرتی کہ اسے سونگھنے، کھانے یا جلد پر لگانے سے کوئی مخصوص بیماری ٹھیک ہو سکتی ہے۔