اسطخودوسPage 5 of 10

ان افعال کو روایتی طبی تصورات کے طور پر سمجھنا چاہیے۔جدید تحقیق نے ان تمام خواص کو ثابت شدہ انسانی علاج کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔روایتی طبی استعمالات اسطخودوس کو روایتی طب میں سر درد، نسیان، دماغی کمزوری، فالج، لقوہ، مرگی، نزلہ و زکام اور بلغم سے متعلق شکایات کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔اس کے علاوہ بعض روایتی نسخوں میں جوڑوں کے درد، معدے کی کمزوری اور جگر سے متعلق بعض علامات کا ذکر بھی ملتا ہے۔اس کے روایتی استعمالات میں دماغ سے غیر مطلوب رطوبات کے اخراج کا تصور اہم رہا ہے۔تاہم فالج، مرگی، جگر کی بیماری یا پیٹ میں پانی جمع ہونے جیسی کیفیتوں کے لیے اسطخودوس کی افادیت مضبوط انسانی شواہد سے ثابت نہیں۔