آیت 30 کی تشریحPage 1 of 2

آیت 30 کی تشریح

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ" یعنی افسوس ہے ان بندوں پر! انسان کی یہ بدبختی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اس کی اصلاح اور ہدایت کے لیے رسول بھیجتا ہے تو وہ ان کی قدر کرنے کے بجائے ان کا مذاق اڑاتا ہے۔تاریخ میں بار بار ایسا ہوا کہ اللہ کے رسول اپنی قوم کی خیر خواہی کے لیے آئے، انہیں اللہ کی طرف بلایا، آخرت کے انجام سے آگاہ کیا اور انہیں عذاب سے بچانے کی کوشش کی، لیکن قوم نے ان کی دعوت کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے ان کا مذاق اڑایا۔درس میں اس مقام پر ایک اہم تقابل بیان کیا گیا کہ اس بستی کے ایک عام امتی، یعنی اس مردِ مومن، کے دل میں اپنی قوم کے لیے کتنی ہمدردی تھی۔