آیت 22 کی تشریحPage 1 of 2This page is saved
آیت 22 کی تشریح
یہاں اس مردِ مومن کا تذکرہ جاری ہے جو بستی کے لوگوں کو سمجھانے کے لیے شہر کے پرلے کنارے سے دوڑتا ہوا آیا تھا۔بعض مفسرین نے اس مومن شخص کا نام حبیب نجار بیان کیا ہے اور یہ بھی ذکر کیا ہے کہ وہ حجاد تھے، تاہم اس نام کی قطعی توثیق نہیں کی جا سکتی اور حقیقی علم اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔اس مردِ مومن نے اپنی قوم کو نہایت عاجزی اور محبت کے ساتھ سمجھاتے ہوئے کہا: "مجھے کیا ہوا ہے کہ میں اس ذات کی بندگی نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا؟" اس نے اپنی ذات کو سامنے رکھ کر اپنی قوم کو غور و فکر کی دعوت دی۔جب اللہ تعالیٰ ہی سب کا خالق ہے تو عبادت کا مستحق بھی وہی ہے۔