آیت نمبر 2Page 2 of 3

دَرس میں بیان کردہ تشریح دَرس کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں قرآنِ مجید کی قسم کھائی ہے۔ قرآن کو "الحکیم" اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ کتاب حکمتوں سے بھری ہوئی ہے۔ مدرس نے الٰہی قسم کی حکمت بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ انسان کسی چیز کی عظمت کے اعتراف میں اس کی قسم کھاتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے کھائی جانے والی قسم ایک شہادت اور الٰہی گواہی کا درجہ رکھتی ہے۔ اس تفسیری وضاحت کے مطابق "وَالْقُرْآنِ الْحَكِيمِ" میں حکمت والا قرآن خود اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔ اہم نکات
  • قرآنِ مجید حکمت سے لبریز کتاب ہے۔
  • اللہ تعالیٰ کی قسم ایک الٰہی گواہی اور شہادت کے طور پر بیان ہوئی ہے۔