آیت نمبر 11Page 2 of 3This page is saved
انہی معاشروں میں کچھ سلیم الفطرت لوگ بھی موجود ہوتے ہیں جو حق کی پکار پر خود بخود متوجہ ہو جاتے ہیں۔دَرس کے مطابق رسول اللہ ﷺ کے خبردار کرنے کا اثر ان لوگوں پر ہوتا ہے جن کے اندر دو بنیادی صفات موجود ہوں: پہلی یہ کہ ان کے دل میں سچائی کی طلب ہو اور وہ نصیحت کی پیروی کے لیے آمادہ ہوں، اور دوسری یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کو بغیر دیکھے اس کے حضور خشیت اور خوف رکھتے ہوں۔ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفرت اور اجرِ کریم کا وعدہ ہے، اور رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ ایسے سچے طلب گاروں کو اس خوشخبری سے آگاہ فرمائیں۔اہم نکات چند لوگوں کی ہٹ دھرمی کو دیکھ کر دعوتی کام سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔