آیت نمبر 10Page 3 of 4This page is saved
خلاصہ سورۃ یٰسین کی آیات 7 تا 10 میں ایسے لوگوں کی فکری اور عملی حالت بیان کی گئی ہے جو حق کے سامنے آنے کے باوجود ضد، تکبر، تعصب اور اندھی تقلید کو اختیار کرتے ہیں۔آیت 7 میں ان لوگوں کا ذکر ہے جن کے بارے میں بات سچی ثابت ہو چکی اور وہ ایمان نہیں لاتے۔آیت 8 میں ان کی اندھی تقلید اور فکری جمود کو طوق سے تعبیر کیا گیا ہے۔آیت 9 میں ان کے تعصب کی ان دیواروں کا ذکر ہے جو انہیں ماضی سے سبق لینے اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں پر غور کرنے سے روکتی ہیں۔آیت 10 میں بتایا گیا ہے کہ ایسے لوگوں کے لیے انذار کرنا یا نہ کرنا برابر ہو جاتا ہے اور وہ ایمان نہیں لاتے۔