آیت نمبر 1Page 2 of 4This page is saved
دَرس میں بیان کردہ تشریح لفظ "یٰسین" کی تشریح میں دَرس کے اندر مفسرین کے دو بڑے اقوال بیان کیے گئے ہیں۔پہلا قول: حضور ﷺ کا صفاتی نام اس قول کے مطابق "یٰسین" اللہ کے نبی ﷺ کا صفاتی اسمِ گرامی ہے۔اس میں "یا" حرفِ ندا ہے اور "سین" کے تحت مختلف توجیہات بیان کی گئی ہیں۔ایک توجیہ کے مطابق اس سے مراد سید العرب والعجم، یا سید البشر ہے، یعنی اے عرب و عجم کے سردار یا اے تمام انسانوں کے سردار۔دوسری توجیہ کے مطابق "سین" سے مراد انسان ہے، جس سے مراد انسانِ کامل لیا گیا ہے، یعنی اے انسانِ کامل۔دوسرا قول: حروفِ مقطعات دوسرے قول کے مطابق "یٰسین" حروفِ مقطعات میں سے ہے۔دَرس میں بیان کیا گیا کہ حروفِ مقطعات سورت کے مضامین کا خلاصہ ہوتے ہیں۔