آیت نمبر 6Page 3 of 5This page is saved
اس مدت کو دَرس میں تقریباً دو یا ڈھائی ہزار سال کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔دوسرا معنی: "ما" موصولہ اس مفہوم کے مطابق معنی یہ بنتا ہے کہ آپ ﷺ اس قوم کو اسی طرح ڈرائیں جیسے ان کے پہلے آباؤ اجداد کو ڈرایا گیا تھا۔دَرس میں "فَهُمْ غَافِلُونَ" کے تحت غفلت کی حالت کو بھی بیان کیا گیا۔مدرس کے مطابق یہ لوگ مقصدِ زندگی کو بھلا کر ایسی غفلت میں مبتلا تھے جیسے بھیڑ بکریاں اور دوسرے مویشی بے مقصد زندگی گزارتے ہیں اور انہیں اپنی جواب دہی کا احساس نہیں ہوتا۔دَرس کے آخر میں دعا اور نصیحت دَرس کے آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی گئی کہ وہ ہمارا شمار غافل لوگوں میں نہ فرمائے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل نہ کرے جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔