آیت نمبر 6Page 2 of 5This page is saved
دَرس میں بیان کردہ تشریح اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کے منصبِ انذار اور قوم کی غفلت کا ذکر کیا گیا ہے۔"لِتُنْذِرَ" کے تحت بیان کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ کا کام لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے نتیجے میں آنے والی گرفت اور عذاب سے خبردار کرنا ہے۔دَرس میں آیت کے لفظ "ما" کے دو تفسیری معانی بھی بیان کیے گئے ہیں۔پہلا معنی: "ما" نافیہ اس صورت میں معنی یہ بنتا ہے کہ آپ ﷺ ایسی قوم کو ڈرائیں جن کے قریبی آباؤ اجداد کو پہلے خبردار نہیں کیا گیا تھا۔دَرس میں اس کے تاریخی پس منظر کے طور پر یہ بیان کیا گیا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بعد ایک طویل عرصے تک اس قوم میں کوئی نبی نہیں آیا تھا۔