آیت 32 کی تشریحPage 4 of 4

اس لیے ہمیں ابھی سے سوچنا چاہیے کہ جب ہم اپنے رب کے سامنے حاضر ہوں گے تو ہمارے پاس پیش کرنے کے لیے کیا ہوگا۔رسول اللہ ﷺ نے دین کی دعوت اور بیداری کا جو کام امت کے سپرد فرمایا، ہمیں اس میں سستی اور کام چوری سے بچنا چاہیے اور اپنی استطاعت کے مطابق اللہ کے دین کے لیے وقت نکالنا چاہیے۔دعا اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم ان آیات کو گہرائی سے سمجھنے والے بنیں، اور صرف سمجھیں ہی نہیں بلکہ اپنے آپ کو اس کام کے لیے تیار کریں جو کام اللہ تعالیٰ اور حضرت محمد ﷺ نے ہمارے سپرد کیا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ۔آمین یا رب العالمین۔  Top of Form