آیت 32 کی تشریحPage 3 of 4This page is saved
درس سے حاصل ہونے والی نصیحت یہ قرآنی واقعات محض قصہ گوئی کے لیے نہیں سنائے گئے بلکہ ان کا مقصد انسان کو اپنی غفلت سے بیدار کرنا ہے۔ہمیں اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہیے کہ کہیں ہم بھی دنیا کی مصروفیات میں اس قدر تو نہیں کھو گئے کہ قرآنِ مجید کو پڑھنے، پڑھانے اور دین کے کام کے لیے وقت ہی نہیں نکال رہے۔بچوں کے مسائل، تجارت، ٹھیکیداری، ملازمت اور دنیا کی دوسری مصروفیات اپنی جگہ ہیں، لیکن ہمیں اس قدر دنیا میں نہیں ڈوب جانا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے دین اور آخرت کی تیاری کے لیے وقت ہی باقی نہ رہے۔موت کسی بھی وقت اچانک آ سکتی ہے۔اس کے بعد انسان کے پاس واپس آکر اپنی اصلاح کرنے کی کوئی مہلت نہیں ہوگی۔